صحافت برائے صحت تربیتی کتابچہ

Progress Bar :

اسباق کا یہ سلسلہ ہیلتھ کمیونیکیشن کمپونینٹ (HCC)کے لئے تیار کیا گیا ہے۔HCC جانز ہوپکنزیونیورسٹی سینٹر فور کمیونیکیشن پروگرامز(CCP) کے زیرِِ قیادت ایک کنسورشیئم کی زیرِ نگرانی پاکستان کے صوبہ سندھ میں بطورِ خاص ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ یہ اسباق ذرائع ابلاغ کے ارکان کو ماں اور بچے کی صحت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ خبریں فائل کرنے کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے ایچ سی سی کنسورشیئم کے ایک رکن ، سینٹر فور کمیونیکیشن پروگرامزپاکستان (CCPP) کی زیرِ نگرانی تیار کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں زچہ اور بچہ کی اموات کی شرح دنیا میں بلند ترین کے آس پاس ہیں۔ یہاں ایک لاکھ زچگیوں کے دوران کوئی دو سو ساٹھ خواتین موت سے ہمکنار ہوجاتی ہیں۔ ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے تقریباً 69 ایک سال کی عمر کے دوران ہی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں زچہ اور بچہ کی اموات کی شرح وفاقی اوسط تعداد سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ اس صوبے میں ایک لاکھ پیدائش کے دوران جاں بحق ہونے والی خواتین کی تعداد 350 کے قریب ہے جبکہ ایک ہزار پیدائش کے دوران 81 بچے یہاں موت کا شکار ہوتے ہیں۔ زچہ اور بچہ کی صحت کے یہ افسوسناک نتائج متعدد براہِ راست اور بالواسطہ وجوہات کے باعث ہیں جس میں غیر تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ طبّی افراد کی شمولیت بھی ہے۔

عمومی طور پر پاکستان میں اور خصوصی طور پر سندھ میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق اس افسوسناک صورتحال کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور پالیسی ساز دونوں ہی کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور یہاں پرنٹ اور نشریاتی صحافت کا اثر رسوخ کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ اخبارات اور چینل کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے معیار اور رسائی یا پہنچ میں بھی غیر معمولی توسیع دیکھنے میں آئی ہے ۔ بہتری کی جانب گامزن ذرائع ابلاغ کی شکل میں میدانِ سیاست کے ایک نئے کھلاڑی اور رحجان ساز کے پاکستان میں ابھر کے سامنے آنے کی ایک وجہ میڈیا ریسرچ اسکالرشپ بھی ہے جو مواصلاتی، اخباری اور دیگر متعلقہ صحافت کے سیاسی احساس کو پیش قدمی میں تعاون فراہم کررہی ہے۔ یہ قوت ذرائع ابلاغ کے ایک دوسرے سے مربوط فرائض یعنی خبر کی ساخت اور سیاسی ایجنڈا طے کرنے میں مضبوطی سے شامل ہے۔ خاص طور پر خبر کی ساخت عوامی رائے اور سیاسی پیغام رسانی کو متاثر کرنے میں اہم مقام کی حامل ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے اثر رسوخ کی حقیقت کو آج ٹیلی وژن نیوز چینل اور ان کے ہم منصب اخبارات کی ریاستی اداروں کے باہم تعلقات کو متاثر کرنے کی طاقت سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ صحت اور خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت کے مسائل خبروں کے مرکزی دھارے میں نمایاں کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو مثبت سماجی تبدیلی کا ایک مختار کار ثابت کرنے کا وقت ہے ۔ پالیسی سازوں سے پالیسی کے حصول یا مقاصد پر نظرثانی کے لیے تجربات اور نئی معلومات سے اخذشدہ فکر یا رویوں اور ارادوں کی نسبتاً پائیدار ترمیم متوقع ہے۔

ذرائع ابلاغ کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے مسائل کی تشہیر تمام تر عوامی سطح پر مطالبات ،پالیسی سازی اور ذرائع ابلاغ کے مضبوط ربط کے باوجود اب ابھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحت اور بطورِ خاص ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل کی ذرائع ابلاغ میں ناکافی تشہیر کی دو اہم ترین وجوہات صحافیوں کی مسائلِ صحت سے متعلقہ خبروں پر گرفت کی کمی اور ہیلتھ جرنلزم پر ضروری معلومات اور صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ ان دونوں مسائل پر ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں اور استعداد میں اضافے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں موجودہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہیلتھ جرنلزم کو خصوصی شعبے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے صحافیوں کی آنے والی نسل کی تربیت بھی بین اقوامی معیار کی مناسبت سے کریں۔

اسباق کا سلسلہ یہ پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل پر ذرائع ابلاغ میں درکار ضروری تشہیر کو یقینی بنانے کے لیے صحافی کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک کاوش ہے۔ صحافیوں کی قابلیت میں اضافے کے لیے ان تربیتی اسباق کا سلسلہ صوبہ سندھ کے دس منتخب اضلاع میں منعقد کیا جائے گا۔ ان دس ضلعوں: میرپوخاص، مٹیاری، سانگھڑ، سکھر، عمرکوٹ، گھوٹکی ، جیکب آباد، لاڑکانہ، نوشہروفیروز اور شکارپور کا انتخاب وہاں ماں اور بچوں کی صحت کے مسائل سے متعلق فکر انگیز صورتحال کے باعث کیا گیا ہے۔ ان اسباق کا مقصد ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل کی خبروں کی بہتر انداز میں نمایاں اشاعت کے لیے ذرائع ابلاغ کو متحرک کرکے مطالبات کو عوامی سطح سے پالیسی سازوں تک پہنچانا ہے تاکہ ضروری اقدامات اور پالیسیوں میں بہتری کے لیے عوام کی رسائی اور احتساب ممکن ہوسکے۔

ہر سبق کے بعد طلباء سے سبق کے دوران زیرِ گفتگو لائے جانے والے مضامین اور موضوعات کے بارے میں ان کی معلومات صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے نشخیصی سوالات دریافت کیے جائیں گے ۔ قبل از تدریس دریافت کردہ سوالات اور تشخیصی سوالات کے نتائج کا موازنہ کرنے سے استاد اور شاگرد کو سکھانے اور سیکھنے میں کامیابی کے حصول شدہ معیار کا اندازہ ہوجائے گا ۔

تشخیصی سوالات کے بعد ایک اختیاری اسائنمنٹ دیا جائے گا جو کہ طلباء سبق کے دورانیہ کے علاوہ مکمل کریں گے ۔ اس اسائنمنٹ کا مقصد سبق کے دوران پڑھائے جانے والے مضامین کی توسیع کرنا ہے۔ ہیلتھ جرنلزم سے متعلق اس اسائنمنٹ کے ذریعے طلباء سبق کے دوران پڑھائے جانے والے کچھ یا تمام موضوعات اور صلاحیتیں حقیقی معنوں میں استعمال کریں گے۔

اسباق کا یہ سلسلہ ضلعی بنیادوں پر زچہ اور بچہ کی صحت سے متعلق معاملات پر نامہ نگاری کے لیے صحافیوں کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اسباق کواس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ ان میں الگ الگ شرکت ممکن ہے۔ اس طرح یہ اسباق نامہ نگار کے لیے باسہولت ہیں کہ وہ اپنی ترجیح کے مطابق منتخب کردہ اسباق میں اپنی مصروفیات کے مطابق بغیر کسی تسلسل کے شرکت کر سکتا ہے۔

English Version

Course Content

Lessons Status
1

مخففات

2

پاکستان میں صحت خصوصاً ماں اور بچے کی صحت سے متعلق امور

3

پاکستان میں صحتِ عامہ کا نظام

4

صحافت برائے صحت میں اعداد و شمار اور حقائق کا استعمال

5

صحافت برائے صحت میں ’داستان گوئی‘ کا استعمال

6

صحافت برائے صحت میں ڈیجٹل میڈیا کا استعمال

7

صحافت برائے صحت میں انسانی حقوق کی اہمیت

8

صحافت برائے صحت میں انٹرویو کا طریقہ کار

9

صحافت برائے صحت کی اخلاقیات

10

صحافت برائے صحت میں صنف اور سماجی اخراج جیسے موضوعات پر غور کرنا

Disclaimer
This webpage is made possible by the support of the American people through the United States Agency for International Development (USAID). The contents are the sole responsibility of Center for Communication Programs Pakistan (CCPP) and do not necessarily reflect the views of USAID or the United States Government.


Center for Communication Programs Pakistan is a sister organization of Johns Hopkins Center for Communication Programs based in Baltimore, Maryland and registered in Pakistan as a nongovernmental and nonprofit organization under the Societies Act XXI of 1860.
You can learn more about the worldwide network of Johns Hopkins Center for Communication Programs by visiting: CCP Worldwide Network